۔تحفہ ماہ رجب

0
2058

 

 

 

تحریر۔نازیہ علی
شب و روز اپنے دل کی آواز اور بے حد اصرار پر اپنے قلم کو آج روایت سے ہٹ کر نیا رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔جب سے ماہ رجب آیا سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اسکے مختلف پھولوں کی خوشبو کہ اتنے انداز ہیں اس میں سے کس کا انتخاب کروں مگر پھر دل نے کہا مختصر بیان تو ہر پھول کا کیا جا سکتا ہے تاکہ ان خوشبوؤں کا گلدستہ بنا کر سب تک پہنچایا جا سکے۔ماہ رجب سے متعلق پائے جانے والے اختلافات کا یہاں ذکر نہ کرنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ کسی کی بھی دل آزاری نہ کی جائے اور مختلف حوالہ جات کے ذریعے ماہ رجب کے تحفوں کی تفصیل تمام مسلمانوں تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ ماہ رجب ان چار مہینوں میں سے ایک ہے جس کا قرآن کریم نے ذکر فرمایا ہے۔جس میں رجب، ذیعقد ، ذی الحجہ اور محرم الحرام شامل ہیں۔بے شک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں اللہ کی کتاب میں جب سے اس نے آسمان اور زمین بنائے ان میں چار حرمت والے ہیں یہ سیدھا دین ہے تو ان مہینوں میں اپنی جان پر ظلم نہ کرو۔
سورہ توبہ ، القرآن
حدیث نبوی ﷺ میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ رجب اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے اور شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے ۔ماہ رجب کو اسلام کے ظہور سے بھی پہلے سے حرمت والے مہینے کا درجہ حاصل ہے ۔اس مہینے میں جنگیں رک جایا کرتی تھیں اس مہینے کئی اہم اسلامی واقعات بھی پیش آئے ہیں۔رجب المرجب کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ رجب ترجیب سے ماخوذ ہے اور ترجیب کے معنی تعظیم کرنا ہے۔ یہ حرمت والا مہینہ ہے اس مہینہ میں جدال و قتال نہیں ہوتے تھے اس لیے اسے “الاصم رجب” کہتے تھے کہ اس میں ہتھیاروں کی آوازیں نہیں سنی جاتیں۔ اس مہینہ کو “اصب” بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ اس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحمت و بخشش کے خصوصی انعام فرماتا ہے۔ اس ماہ میں عبادات اور دعائیں مستجاب ہوتی ہیں۔ دور جہالت میں مظلوم، ظالم کے لئے رجب میں بددعا کرتا تھا۔ (عجائب المخلوقات)۔ماہ رجب ساتواں اسلامی مہینہ ہے۔ زمانہ جاہلیت میں بھی اس کو مقدس اور حرمت کا مہینہ سمجھا جاتا تھا۔ اسے رجب المرجب بھی کہا جاتا ہے۔ اس ماہ میں عمرہ کی رسم ادا کی جاتی تھی اور جنگ حرام سمجھی جاتی تھی۔ قریش اور قیس کے قبیلہ میں ایک جنگ اسی مہینے میں ہوئی تھی جس کو جنگ فجار (فجور سے مشتق ہے) کہتے ہیں اس میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی شریک ہوئے تھے لیکن آپ نے کسی پر تلوار نہیں چلائی۔ اگر کوئی معترض کہے کہ یہ چار مہینے بھی دیگر مہینوں کی مانند ہیں تو پھر انہیں دوسروں سے ممتاز کیوں کیا گیا تو اسکا جواب بھی موجود ہے کہ شریعت میں یہ چیز بعید نہیں کیونکہ شریعت میں مکہ مکرمہ کو دیگر شہروں سے زیادہ محترم قرار دیا گیا اور جمعہ کے دن اور عرفہ کے دن کو باقی دنوں سے زیادہ معتبر کہا گیا۔شب قدر کو باقی راتوں پر برتری دی گئی۔ بعض اشخاص کو رسالت عطا کر کے دوسروں پر فوقیت دی گئی ہے تو اگر بعض مہینوں کو دوسروں کے مقابلے میں امتیازی حیثیت دی گئی ہے تو یہ کوئی حیرانی یا پریشانی کی بات نہیں۔ اہل اسلام اس مہینے کو اس واسطے متبرک سمجھتے ہیں کہ اسی ماہ کی ستائیسویں شب کو واقعہ معراج ہوا۔ مسلمان 27 رجب کو معراج النبی ﷺ عبادت اور عقیدت کے ساتھ مناتے ہیں اس ماہ کی مبارک ولادتوں میں کچھ مندرجہ ذیل ہیں یکم رجب ولادت امام محمد باقر ع ، 5 رجب امام علی نقی ع ،9 رجب شہزادہ علی اصغر ابن حسین ابن علی ع ،10 رجب امام محمد تقی ،13 رجب مولا علی ع ، 14 رجب حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری، 20 رجب سکینہ بنت حسین (مختلف مقامات پر تاریخ میں تضاد یے) جبکہ 22 رجب نیاز امام جعفر صادق ع کونڈے بھی ہوتے ہیں۔12 رجب جناب علی ابن ابی طالب علیہ السلام جنگ جمل کے بعد کوفہ تشریف لائے۔ کوفہ کو پایہ تخت قرار دیا اور پہلا خطبہ ارشاد فرمایا۔15 رجب تحویل قبلہ در مسجد قبلتین۔شب معراج کا واقعہ 27 رجب ماہ رجب کی فضیلت اس لحاظ سے بھی ہے کہ اس میں پہلی بار حضرت جبرائیل ؑ وحی لے کر نبی اکرم ص پر نازل ہوئے تھے۔ اسی ماہ تاریخ اسلام میں شب معراج النبی ص کا واقعہ پیش آیا جو بہت اہمیت اور عظمت کا حامل ہے۔ یہ واقعہ 27 رجب کو پیش آیا۔ اس ماہ تکمیل عبودیت ہوئی تھی۔ یہ معجزہ ایک ایسا اعزاز ہے جو کسی اور نبی کو نہیں ملا۔13 رجب کو خانہ کعبہ میں مولائے متقیان حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام پیدا ہوئے ۔ تمام علماءو مو رخین اہل سنت وشیعہ نے با اتفاق لکھا ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے ۔حاکم نیشاپوری جو اہل سنت کے بزرگ علما میں شمار ہوتے ہیں اپنی کتاب مستدرک ،ج۳،ص۴۸۳ پر اس حدیث کو باسندو متواتر لکھا ہے :لکھتے ہیں” وَقَد تَوَاتِرَتِ الاَخبٰارُ اَنَّ فَاطِمَۃَ بِنتِ اَسَد (ع) وَلَدَت اَمِیرَ المُومِنِینَ عَلِی ابنُ اَبِی طَالِبٍ کَرَّمَ اللّٰہُ وَجہَہُ فِی جَو فِ الکَعبَۃ “”امیر المومنین علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہ ،فاطمہ ابنت اسدکے بطن مبارک سے خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے“
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اپنی کتاب ” ازالۃ الخفائ“ صفحہ ۲۵۱ پر اس حدیث کو اور واضح طور پر تحریرکیا ہے کہ احضرت علی علیہ السلام سے پہلے اور نہ ان کے بعد کسی کو یہ شرف نصیب نہیں ہوا چنانچہ لکھتے ہیں:”تواتر الاخبار انفاطمۃ بنت اسد ولدت امیر المومنین علیاً فی جوف الکعبۃ فانہ ولد فی یوم الجمعۃ ثالث عشر من شہر رجب بعد عام الفیل بثلاثین سنۃ فی الکعبۃ و لم یولد فیھا احد سواہ قبلہ ولا بعدہ“متواتر روایت سے ثابت ہے کہ امیر المومنین علی (ع)روز جمعہ تیرہ رجب تیس عام الفیل کو وسط کعبہ میں فاطمہ بنت اسد کے بطن سے پیدا ہوئے اور آپ کے علاوہ نہ آپ سے پہلے اور نہ آپ کے بعد کوئی خانہ کعبہ میں پیدا ہوا“
حافظ گنجی شافعی اپنی کتاب ” کفایۃالطالب“صفحہ ۲۶۰پرحاکم سے نقلکرتے ہوئے لکھتےہیں:”امیرالمو منین حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام مکہ معظمہ میں خانہ کعبہ کے اندر شب جمعہ ۱۳رجب ، ۳۰ عام الفیل کو پیدا ہوئے۔ ان کے علاوہ کوئی بھی بیت اللہ میں نہیں پیدا ہوا ۔نہ اس سے پہلے اورنہ اس کے بعد ۔ یہ منزلت و شرف فقط حضرت علی علیہ السلام کو حاصل ہے” یہ وہی محترم و پاک و پاکیزہ اور با عظمت گھر ہے جس میں مولائے متقیان حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام پیدا ہوئے ۔ تمام علماءو مو رخین اہل سنت وشیعہ نے با اتفاق لکھا ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے ۔حاکم نیشاپوری جو اہل سنت کے بزرگ علما میں شمار ہوتے ہیں اپنی کتاب مستدرک ،ج۳،ص۴۸۳ پر اس حدیث کو باسندو متواتر لکھا ہے :لکھتے ہیں” وَقَد تَوَاتِرَتِ الاَخبٰارُ اَنَّ فَاطِمَۃَ بِنتِ اَسَد (ع) وَلَدَت اَمِیرَ المُومِنِینَ عَلِی ابنُ اَبِی طَالِبٍ کَرَّمَ اللّٰہُ وَجہَہُ فِی جَو فِ الکَعبَۃ “”امیر المومنین علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہ ،فاطمہ ابنت اسدکے بطن مبارک سے خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے“
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اپنی کتاب ” ازالۃ الخفائ“ صفحہ ۲۵۱ پر اس حدیث کو اور واضح طور پر تحریرکیا ہے کہ احضرت علی علیہ السلام سے پہلے اور نہ ان کے بعد کسی کو یہ شرف نصیب نہیں ہوا چنانچہ لکھتے ہیں:”تواتر الاخبار انفاطمۃ بنت اسد ولدت امیر المومنین علیاً فی جوف الکعبۃ فانہ ولد فی یوم الجمعۃ ثالث عشر من شہر رجب بعد عام الفیل بثلاثین سنۃ فی الکعبۃ و لم یولد فیھا احد سواہ قبلہ ولا بعدہ“متواتر روایت سے ثابت ہے کہ امیر المومنین علی (ع)روز جمعہ تیرہ رجب تیس عام الفیل کو وسط کعبہ میں فاطمہ بنت اسد کے بطن سے پیدا ہوئے اور آپ کے علاوہ نہ آپ سے پہلے اور نہ آپ کے بعد کوئی خانہ کعبہ میں پیدا ہوا“
حافظ گنجی شافعی اپنی کتاب ” کفایۃالطالب“صفحہ ۲۶۰پرحاکم سے نقلکرتے ہوئے لکھتےہیں:”امیرالمو منین حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام مکہ معظمہ میں خانہ کعبہ کے اندر شب جمعہ ۱۳رجب ، ۳۰ عام الفیل کو پیدا ہوئے۔ ان کے علاوہ کوئی بھی بیت اللہ میں نہیں پیدا ہوا ۔نہ اس سے پہلے اورنہ اس کے بعد ۔ یہ منزلت و شرف فقط حضرت علی علیہ السلام کو حاصل ہے” ۔سُلطان الہند حضرت خواجہ سیّد محمد معین الدین چشتی اجمیری سلسلۂ چشتیہ کے مشہور بزرگ ہیں آپ قطب الدین بختیار کاکی، بابا فرید الدین گنج شکر جیسے عظیم الشان پیرانِ طریقت کے مرشد ہیں۔ غریبوں کی بندہ پروری کرنے کے عوض عوام نے آپ کو غریب نواز کا لقب دیا جو آج بھی زبان زدِ عام ہے۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ 14 رجب المرجب بروز پیر کو جنوبی ایران کے علاقے سیستان میں خراسان کے نزدیک سنجر نامی گاؤں کے ایک امیر گھرانے میں پیدا ہوئے۔ معین الدین کا بچپن میں نام حسن تھا۔ آپ نسلی اعتبار سے نجیب الطرفین صحیح النسب سید تھے آپ کا شجرہ عالیہ بارہ واسطوں سے امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے جا ملتا ہے۔ آپ کے والد گرامی خواجہ غیاث الدین حسین امیر تاجر اور با اثر تھے۔ خواجہ غیاث صاحب ثروت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عابد و زاہد شخص بھی تھے۔ دولت کی فراوانی کے باوجود معین الدین چشتی بچپن سے ہی بہت قناعت پسند تھے۔ معین الدین کی والدہ محترمہ کا اسم گرامی بی بی ماہ نور ہے۔22 رجب کو نذر امام جعفر ع کونڈے کی نیاز دلوائی جاتی ہے جسکا شیعہ موقف یہ ہے کہ زمانہ امام جعفر صادق 34 سال پہ محیط ہے (114ھ تا 148ھ) ان میں معجزات وکرامات اور ارشادات بھی ہیں جنہیں الجرائح و الخرائج نے اور تزکرة المعصومین نے تفصیل سے لکھا ہے امام علم لدنی کے مالک تھے اور پسندیدہ رب تھے ایک صحابی نے دعا کے لیے کہا آپ نے اپنے الله سے التجا کر کے مراد پوری کر دی صحابی نے عقیدت میں نیاز تیار کی کونڈے میں رکھ کر صبح کی نماز کے بعد نمازیوں کو کھلا دی “22 رجب تھی” لوگوں نے دیکھا دیکھی منتیں ماننا شروع کر دیں جس کی منت پوری ہوگئی کونڈے بھرنے شروع ہو گئے۔ اور یوں تیرہ سو سال سے یہ رسم چلی آ رہی ہے۔ عبدالرحمن جامی نے شواہد النبوة میں جعفر صادق کا وعدہ پورا کرنا اور کرامات دکھانا وضاحت سے لکھا ہے یہ نذر ونیاز اس لیے زیادہ مقبول ہوئی کہ جعفر صادق نے فرمایا منت کے صیغے پڑھ کر قصد کیا جائے۔ تو مراد پوری ہوتی ہے، رزق میں اضافہ ہوتا ہے۔ مومنین سے محبت بڑھتی ہے، صلہ رحمی کا موقع ملتا ہے۔ پاکیزگی سے کھانا پکانے کا درس ملتا ہے۔ اہل بیت سے محبت بڑھتی ہے۔کونڈے کی نیاز کیلئے اگر سنی موقف دیکھا جائے تو صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی اپنی مقبول کتاب بہار شریعت میں لکھتے ہیں۔ماہ رجب میں بعض جگہ حضرت سیدنا امام جعفر صادق ع کو ایصال ثواب کے لیے پوریوں کے کونڈے بھرے جاتے ہیں یہ بھی جائز ہے، مگر اس میں اسی جگہ کھانے کی بعضوں نے پابندی کر رکھی ہے، یہ بے جا پابندی ہے۔محدث اعظم پاکستان، مولانا محمد سردار احمد رضوی، 22 رجب کے کونڈے بھی شرعا جائز و باعث خیروبرکت ہیں۔امیر اہلسنت و مفتی پاکستان ابو البرکات سید احمد قادری 22 رجب کے کونڈے بھرنا بھی اہل سنت کے معمولات میں سے ہے اور اس کے جواز کے وہی دلائل ہیں جو فاتحہ و ایصال ثواب کے ہیں۔علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی اپنی کتاب جنتی زیور میں لکھتے ہیں: ماہ رجب میں حضرت امام جعفر صادق رحمتہ اللہ علیہ کو ایصال ثواب کرنے کے لیے پوریوں کے کونڈے بھرے جاتے ہیں یہ سب جائز اور ثواب کے کام ہیں مفتی محمد خلیل خان برکاتی، اپنی کتاب سنی بہشتی زیور میں لکھتے ہیں۔ماہ رجب میں بعض جگہ حضرت سیدنا امام جعفر صادق ع کو ایصال ثواب کے لیے کھیر ،پوری، حلوا پکا کر کونڈے بھرے جاتے ہیں اور فاتحہ دلا کر لوگوں کو کھلائے جاتے ہیں، یہ بھی جائز ہے۔معراج النبی ﷺ جو کہ شب معراج النبی ﷺ کے طور پر منائی جاتی یے اور مسلمان نوافل اور عبادت کر کے روزے بھی رکھتے ہیں بے شک ماہ رجب میں ہمیں اللہ کی طرف سے بے شمار تحفے عطا کیے گئے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here