جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی کی جانب سے کراچی یونیورسٹی بزنس انکیوبیشن سینٹر کے لئے10لاکھ جبکہ ڈاکٹر فرحان عیسیٰ کی جانب سے پانچ لاکھ روپے کا اعلان

0
1811

بانی ٹرانسفارمیشن انٹرنیشنل سوسائٹی ڈاکٹرمحمد عمران یوسف نے کہا کہ ہر کاروبار کرنے اور پیسے کمانے ،بنانے والافرد انٹر پرینیورنہیں ہوتا ،انٹرپرینیوروہ ہوتاہے جو اپنے فائدے سے پہلے اس کی پروڈکٹ یاسروس کو استعمال کرنے والے کنزیومر اور کسٹمر کے فائدے کا سوچتاہے اور وہ انٹرپرینیورجو اپنی ذات سے نکل کر سامنے والے کے لئے سوچتاہے ایسا ممکن نہیں ہے کہ اللہ تعالی اس کی زندگی اور آخرت کے اندر وہ خوشی نہ دے جس کے اندر مال بھی موجود ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ کراچی کے آفس آف ریسرچ اینوویشن اینڈ کمرشلائزیشن کے زیر اہتمام اور عیسیٰ لیبارٹری کے تعاون سے کراچی یونیورسٹی بزنس اسکول کی سماعت گاہ میں منعقدہ ایک روزہ سیمینار بعنوان: ”کاروباری تعلیم کی طاقت سے روشناس کرانا “ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
سی ای او اینڈ مینجنگ ڈائریکٹر عیسیٰ لیبارٹری اینڈ ڈائیگنوسٹک سینٹر پروفیسرڈاکٹر فرحان عیسیٰ عبداللہ نے کہا کہ آرگنائزیشن آف پاکستان انٹرپرینیورزآف نارتھ امریکہ کا مقصد انٹرپرینیورشپ کو نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی فروغ دینا ہے۔کچھ عرصہ قبل امریکہ جانے والے پاکستانی جوانٹرپرینیورشپ کے ذریعے ارب پتی ہوچکے ہیں اور وہ اس آرگنائزیشن کے ذریعے پاکستان کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ہمیں ناکامیوں سے گھبرانے کے بجائے اس کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کراچی یونیورسٹی بزنس انکیوبیشن سینٹر کے لئے پانچ لاکھ روپے کا بھی اعلان کیا۔
ڈاکٹر فرحان عیسیٰ نے مزید کہا کہ شیخ الجامعہ پروفیسرڈاکٹر خالد عراقی اپنے طلبہ کا درد رکھتے ہیں جو لائق تحسین ہے۔میں ان کو کافی عرصے سے جانتا ہوں، ہمارا یہ پروپوزل انھوں نے فوری طور پر منظورکیا ۔اسٹارٹ اپزکے ناکام ہونے کی کئی وجوہات ہوتی ہیں،اپنے صارفین کی نشاندہی بہت ضروری ہے ۔منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرنا کامیابی کی ضمانت ہے۔
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ میری کوشش ہے کہ جامعہ کراچی کے طلبہ کو تجارت و کاروبار میں قائدانہ کردار کرنے کے لئے تیار کیا جائے جو اپنی معاشی و کارباری سرگرمیوں کے ذریعہ ملک و بیرون ملک ہزاروں نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کریں ۔ہمارے اساتذہ ہماری طاقت ہیں، ہمارے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور مناسب مواقع ملنے پر وہ ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواسکتے ہیں۔ہر شخص صلاحیتوں سے مالامال ہوتاہے کسی کو بھی ناامید ہونے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر خالد عراقی نے کراچی یونیورسٹی بزنس انکیوبیشن سینٹر کے لئے10 لاکھ روپے کا اعلان بھی کیا۔
ڈائریکٹرامن سینٹر فار انٹرپرینیورل ڈیولپمنٹ آئی بی اے ڈاکٹر شاہد قریشی نے کہا کہ صرف اچھے امتحانی نتائج ہی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتے ۔انسانی محنت،لگن اور تخلیقی صلاحیتیں ہر حال میں اپنی اہمیت اور افادیت منوالیتی ہیں۔ایک تخلیقی دماغ نہ صرف خود ترقی کرتاہے بلکہ معاشرے اور معاشرے کے ہزاروں افراد کو روز گار کے مواقع فراہم کرنے ذریعہ بن جاتاہے۔میں نے دوران تعلیم جو کچھ سیکھا اس سے اپنی عملی زندگی میں بھرپور استفادہ بھی کیا ۔تاہم جرمنی میں پی ایچ ڈی کے دوران وہاں کے لوگوں کوقریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملااور میں نے یہ سیکھا کہ کام کو خوش دلی اور لگن سے کرنے سے اس کے مثبت نتائج برآمد ہوتے ہیں۔
ڈائریکٹر آفس آف ریسرچ اینوویشن اینڈ کمرشلائزیشن جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر عالیہ رحمن نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا جبکہ شعبہ نفسیات جامعہ کراچی کی پروفیسر ڈاکٹر فرح اقبال نے کلمات تشکر اداکرتے ہوئے آرگنائزیشن آف پاکستان انٹرپرینیورزآف نارتھ امریکہ کے اغراض ومقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

ایک سال کے دوران صرف کراچی میں 261 افراد روڈ حادثے کی وجہ سے موت کا شکارہوگئے ہیں ۔ایڈیشنل آئی جی ٹریفک شعبان علی
روڈ ٹریفک حادثات میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد میں نوجوانوں کا تناسب 60 فیصد سے زائد ہے۔علی سوہاگ

جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ کسی بھی سماج کے امن وامان کا براہ راست تعلق نظم ونسق اورقانون کی پابندی وبالادستی سے ہوتاہے۔ دنیا کی تمام مہذب اقوام اورمعاشروں میں قواعدوضوبط،آئین، قانون اورنظم ونسق پرموثر طورپرعمل درآمد کیا جاتا ہے۔ گاڑیوں کی تعدادبڑھنے کی وجہ سے روڈ حادثات میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے روڈ حادثات میں اضافہ ہوتاہے۔پاکستان کے مقابلے میں مغرب میں گاڑیوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے کیونکہ وہاں پر موجود ہر خاندان کے پاس دوسے چار گاڑیاں ہوتی ہیں لیکن روڈحادثات نہ ہونے کی وجہ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد ہے۔ہمارے یہاں یہ بات کی جاتی ہے کہ گاڑیوں کی تعداد بڑھنے کی وجہ سے روڈ حادثات ہوتے ہیں ،ہمیں دوسروں پر تنقید کرنے کے بجائے اپنے آپ کو دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم کس حدتک ٹریفک قوانین ،دوسروں کو راستہ دینے اورقوانین سے متعلق جو آگاہی حاصل ہے اس پر کتنا عمل کررہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے زیر اہتمام اور طاہرہ طارق کی زیرنگرانی ٹریفک حادثات کے متاثرین کی یاد میں عالمی دن کے موقع پر شعبہ ابلاغ عامہ کے سرور نسیم ہال میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر رجسٹرار جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر سلیم شہزاد،مشیر امورطلبہ ڈاکٹر سید عاصم علی اور کیمپس سیکیورٹی ایڈوائزر ڈاکٹر معیز خان بھی موجود تھے۔
ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ 2007 میں18 ممالک میں ٹریفک حادثات کے متاثرین کی یاد میں عالمی دن منایا گیا جبکہ 2008 ءمیں 28 اور 2015 ءمیں 112 ممالک میں یہ دن منایا گیا جو یہ ظاہر کرتاہے کہ اس حوالے سے دن بدن آگاہی میں اضافہ ہورہاہے جو خوش آئند ہے۔روڈحادثات میں اضافے کی اصل وجہ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد نہ کرنا ہے اور ان حادثات کو کم کرنے کے لئے ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد ناگزیر ہے۔
ایڈیشنل آئی جی شعبان نے کہا کہ روڈحادثات میں اضافے کی اصل وجہ ٹریفک قوانین کو نظر انداز کرنا ہے۔ایک سال کے دوران صرف کراچی میں 261 افراد روڈ حادثے کی وجہ سے موت کا شکارہوگئے ہیں جس میں 67 فیصد موٹر سائیکل سوار شامل ہیں اور اس میں اکثریت نوجوانوں کی ہے۔ہمیں گاڑی چلاتے ہوئے موبائل فون کے استعمال سے گریزکرنا چاہیئے کیونکہ اس کی وجہ سے بھی بہت سے حادثات رونماہوتے ہیں۔روڈ حادثے کی وجہ سے نہ صرف حادثے کا شکار ہونے والا فرد بلکہ اس کا پورا خاندان متاثر ہوتاہے۔
پروگرام آرگنائزر طاہر ہ طارق نے کہا کہ مذکورہ تقریب کا مقصد ٹریفک قوانین سے متعلق آگاہی کو فروغ دینا ہے اور روڈ حادثات سے متاثرین افراد کو یاد کرتے ہوئے مستقبل میں ایسے حادثات سے بچنے کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا ہے۔ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں سالانہ 14 لاکھ لوگوں کی ہلاکت ٹریفک حادثات کی وجہ سے ہوتی ہیں اور دنیا میں ہونے والی ہلاکتوں میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ٹریفک حادثات کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
انسپکٹر علی سوہاگ اور ان کی ٹیم نے پریزنٹیشن کے ذریعے روڈ ٹریفک حادثات کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں اور بتایا کہ روڈ ٹریفک حادثات میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد میں نوجوانوں کا تناسب 60 فیصد سے زائد ہے جبکہ کم عمر بچوں سمیت اور ضعیف العمر افراد کی بھی بڑی تعداد ان حادثات کا شکارہوجاتی ہے۔بدقسمتی سے کراچی میں سب سے زیادہ روڈ حادثات کا شکار ہونے والوں میں موٹر سائیکل سوار شامل ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خاص طور پر خواتین کو موٹر سائیکل پر سواری کرتے وقت اپنے عبایے اور دوپٹے کوچین یا ٹائر کی زد میں آنے سے بچانے کی کوشش کریں کیونکہ یہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ٹھوٹی پھوٹی سٹرکیں اور اسٹریٹ لائٹس کا نہ ہونا اور ٹریفک قوانین سے لاعلمی اور سٹرک پر غلط سمت سے آنا حادثات کی چند بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
جامعہ کراچی: مخصوص نشستوں پر داخلوں کے لئے فارم جمع کرانے کی تاریخ کا اعلان*
انچارج ڈائریکٹوریٹ آف ایڈمیشنز جامعہ کراچی ڈاکٹر صائمہ اختر کے مطابق مخصوص نشستوں (Reserved Seats )پر داخلوں کے لئے فارم 26 نومبر 2019 ءتک جمع کرائے جاسکتے ہیں۔ مخصوص نشستوں میں اسپورٹس،کراچی یونیورسٹی ایمپلائز،معذورافراد(اسپیشل پرسنز)،آرمڈ فورس،وکلا کے بچے ،فاٹا،شمالی علاقہ جات وآزاد جموں کشمیر،اندرون سندھ اور بلوچستان کی نشستیں شامل ہیں۔
طلبہ تمام معلومات بمعہ آن لائن داخلہ فارم ،فیس واﺅچر اور پراسپیکٹس کے حصول کے لئے www.uokadmission.edu.pk پررابطہ کرسکتے ہیں،جہاںتمام معلومات موجودہیں۔ داخلہ فارم کی پروسیسنگ فیس 2000 روپے کا واﺅچر جمع کرانے کے بعد آن لائن داخلہ فارم جمع کرایا جاسکتا ہے۔
واضح رہے کہ ایسے شعبہ جات جہاں داخلہ ٹیسٹ کا اطلاق ہوتاہے ،ان شعبہ جات کا انتخاب صرف وہ ہی طلبہ کرسکتے ہیں جنہوں نے داخلہ ٹیسٹ والے شعبہ جات کا فارم جمع کرایا ہے اور داخلہ ٹیسٹ میں بھی شرکت کی ہے۔ داخلے پالیسی کے مطابق دیئے جائیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جامعہ کراچی: ماسٹرز مارننگ پروگرام کی داخلہ فہرستیں جاری

انچارج ڈائریکٹوریٹ آف ایڈمیشنز جامعہ کراچی ڈاکٹر صائمہ اختر کے مطابق ماسٹرز(مارننگ پروگرام) میں داخلہ ٹیسٹ کی بنیاد پر ہونے والے داخلوں کی فہرستیں جاری کردی گئیں ہیں ۔ایسے طلباوطالبات جن کے نام جاری کردہ داخلہ فہرستوں میں آچکے ہیں وہ اپنی داخلہ فیس 09 تا13 دسمبر2019 ءتک جمع کراسکتے ہیں۔داخلہ فیس جمع کرانے کے طریقہ کار کاشیڈول 02 دسمبر 2019 ءکو جاری کردیا جائے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here